ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ کے محکمۂ فلاح و بہبود کی جانب سے ایک بڑی انتظامی غلطی کے نتیجے میں گزشتہ چار برسوں کے دوران فوت شدہ افراد کے نام پر تقریباً 850 ملین پاؤنڈ (یعنی 1.1 ارب امریکی ڈالر سے زائد) کی ادائیگیاں کی گئی ہیں، جس کا انکشاف ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021 سے اب تک تقریباً 26 لاکھ غلط ادائیگیاں ان افراد کے نام پر ہوئیں جو وفات پا چکے تھے۔ یہ غلطیاں زیادہ تر اس وجہ سے ہوئیں کہ کسی شخص کی وفات کی اطلاع وقت پر متعلقہ نظام تک نہ پہنچ سکی، یا ادائیگی کے عمل کے دوران معلومات اپ ڈیٹ نہ ہو سکیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 میں فلاحی ادائیگیوں میں مجموعی طور پر 9.5 ارب پاؤنڈ کی اضافی ادائیگیاں ہوئیں، جن میں زیادہ تر رقم دھوکہ دہی یا دعویداروں کی غلطیوں کے باعث ادا کی گئی۔ تاہم حالیہ انکشاف میں سامنے آنے والی 850 ملین پاؤنڈ کی رقم انتظامی غلطی سے متعلق ہے، جو خاص طور پر وفات پا جانے والے افراد سے جڑی ہے۔ اس رقم میں سے نصف سے بھی کم واپس حاصل کی جا سکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض کیسز میں رقم کی واپسی پر آنے والی لاگت اس رقم سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، اس لیے محکمہ صرف ان کیسز میں ریکوری کرتا ہے جہاں یہ عمل عملی اور فائدہ مند ہو۔
اس انکشاف پر برطانوی سیاسی حلقوں اور ٹیکس ادا کرنے والوں کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ مخالف سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال حکومتی نظام میں سنگین کمزوری کو ظاہر کرتی ہے اور عوامی پیسے کے انتظام پر سوالات اٹھاتی ہے۔ محکمۂ فلاح و بہبود کے ترجمان نے دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسا نظام موجود ہے جس کے تحت کسی شخص کی وفات کی اطلاع ایک ہی بار میں تمام متعلقہ اداروں کو دی جا سکتی ہے، تاکہ مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچا جا سکے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکومت کی فلاحی پالیسیوں اور دیگر اخراجات پر پہلے ہی تنقید جاری ہے۔