ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔ بھارتی حکومت کے ایک ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق روسی تیل پر امریکی پابندیوں میں دی گئی 30 روزہ چھوٹ 11 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، تاہم بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان کی پالیسی متاثر نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق امریکا نے پابندیوں میں نرمی اپنے مفاد میں کی تھی اور یہ اقدام بھارت کے مفاد کے لیے نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پہلے بھی پابندیوں کے دوران روسی تیل خریدتا رہا ہے اور آئندہ بھی خریداری جاری رکھے گا۔
بھارتی حکام نے زور دیا کہ ملک کی توانائی ضروریات کو پورا کرنا اولین ترجیح ہے، اور اسی بنیاد پر تیل کی خریداری سے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی حالات اور منڈی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کو توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے آغاز میں امریکی محکمہ خزانہ نے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر عائد پابندیوں میں جزوی نرمی دی تھی، جس کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ لین دین کی اجازت 11 اپریل تک دی گئی۔
دوسری جانب روسی نائب وزیر خارجہ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے امریکا اس رعایت میں مزید توسیع کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔