ایران جنگ پر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک، امریکی سیاست میں ہلچل

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکا کے صدر Donald Trump کے خلاف ایران جنگ سے متعلق اقدامات پر مواخذے کی تحریک سامنے آ گئی ہے۔ ڈیموکریٹ رکن کانگریس John Larson نے صدر کے خلاف 13 الزامات پر مشتمل مواخذے کی قرارداد جمع کرا دی ہے۔ جان لارسن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک “غیر قانونی جنگ” چھیڑی اور ایران کے خلاف ایسے اقدامات کیے جن سے امریکی سلامتی اور شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر روز بروز زیادہ غیر مستحکم ہو رہے ہیں اور انہیں عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر کے بیانات، جن میں آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے سخت دھمکیاں بھی شامل ہیں، ممکنہ جنگی جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کے قابل نہیں۔

دوسری جانب تقریباً 70 ڈیموکریٹ رہنماؤں، جن میں سابق اسپیکر Nancy Pelosi اور سینیٹر Chris Murphy بھی شامل ہیں، نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی طریقہ کار استعمال کیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ صدر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے اہل نہیں رہے۔

مزید برآں رکن کانگریس Jim McGovern اور رکن کانگریس Lauren Underwood نے بھی صدر کے فوری طور پر عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف مجوزہ حملوں کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرتے ہوئے سفارتی حل کی جانب پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی حملوں میں ایران کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ مختلف رپورٹس کے مطابق جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

دوسری جانب صدر کے حامیوں اور ریپبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کیے گئے، جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اپنے پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ صدر کے مواخذے کے لیے ایوان نمائندگان میں سادہ اکثریت جبکہ عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔