ماسکو (صداۓ روس)
روس نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا دائرہ کار علاقائی ہے اور اس میں لبنان بھی شامل ہے۔ یہ بات روسی وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے اپنے ایرانی ہم منصب Abbas Araghchi سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہی۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق سرگئی لاوروف نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور اس میں اسرائیل کی شمولیت کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور آئندہ مذاکرات کی کامیابی کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ روس خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے نتائج سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔
روسی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ان معاہدوں کا دائرہ وسیع ہے اور یہ خاص طور پر لبنان تک بھی پھیلتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اس جنگ بندی کا حصہ نہیں اور وہ وہاں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد لبنان میں بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے جن میں مختصر وقت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 1700 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 5800 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کو مکمل بنانے کے لیے لبنان کو اس میں شامل کرنا ضروری ہے، جبکہ یہ بھی خبردار کیا ہے کہ جب تک اسرائیل تمام محاذوں پر جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز بحری آمد و رفت کے لیے بند رہے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے مؤقف کی حمایت پر روس کا شکریہ بھی ادا کیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
روس نے 28 فروری سے جاری امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کی مسلسل مذمت کی ہے اور کشیدگی کم کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی حل پر زور دیا ہے۔