ماسکو (صداۓ روس)
روس نے اسلام آباد میں ایران سے متعلق ہونے والے مذاکرات کے شرکاء پر زور دیا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو اس عمل کو متاثر کر سکتا ہو۔ روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات خلیجی خطے کے بحران کے حل کا ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں، اور دنیا کے بیشتر ممالک اس عمل کی حمایت کرتے ہوئے اس کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کچھ قوتیں دانستہ یا نادانستہ طور پر امن کی جانب پیش رفت میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں، جبکہ ان عناصر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جنہوں نے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا اور اب آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے مسائل کا ذمہ دار بھی ایران کو ٹھہرا رہے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ہدف خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ اور اس کی بنیادی وجوہات کا ازالہ ہے، خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔
بیان میں لبنان میں جاری حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ان کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی نہ بڑھے۔ روس نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ خطے کے تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، اور خلیجی سلامتی کے لیے روس کی جانب سے پیش کردہ علاقائی مکالمے کی تجویز اب بھی قابل عمل ہے۔ روسی بیان میں کہا گیا کہ خلیج کے ساحلی ممالک اور ایران کے درمیان مکالمہ، بیرونی شراکت داروں کی معاونت سے، خطے میں پائیدار امن اور مفادات کے توازن کو یقینی بنا سکتا ہے۔