اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ ختم، ایران کا نئے مذاکرات سے انکار: روسی میڈیا

Islamabad Islamabad

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کسی امن معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے، جبکہ خلیجی خطے میں جاری جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔ امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے اور اپنے مؤقف کو واضح کیا، تاہم ایران نے امریکی شرائط قبول نہیں کیں۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی، لیکن دو سے تین اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے تعمیری تجاویز پیش کیں مگر امریکا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ان کے مطابق اب فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہوگا کہ وہ ایران کا اعتماد کیسے جیتتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز، پرامن جوہری توانائی اور دیگر بنیادی معاملات پر امریکی شرائط مسترد کر دیں، اور فی الحال نئے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

اگرچہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں، تاہم دونوں فریقین نے عمل کو مکمل طور پر ختم قرار نہیں دیا۔ اطلاعات کے مطابق نچلی سطح پر تکنیکی رابطے اور سفارتی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو خبردار کیا کہ اگر اس نے ایران کو ہتھیار فراہم کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ چین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، تاہم ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایرانی افواج کی اجازت ضروری ہے۔ دریں اثنا امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر اسلام آباد میں موجود ہیں تاکہ مزید بات چیت جاری رکھی جا سکے۔