ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی حکام نے اپنے یورپی ہم منصبوں کو خبردار کر دیا ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے امریکی اسلحہ کے ذخائر کم ہونے سے پہلے سے طے شدہ ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد واشنگٹن اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک کو “بزدل” قرار دیا ہے کیونکہ وہ اس فوجی کارروائی میں شامل ہونے کو تیار نہیں۔ ٹرمپ نے نیٹو سے امریکی انخلا کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق بالٹک اور اسکینڈینیویا سمیت کئی یورپی ممالک کو وعدہ کیے گئے امریکی ہتھیار وقت پر نہیں مل سکیں گے۔ ذرائع نے ممالک کے نام ظاہر کرنے سے انکار کیا کیونکہ کچھ ممالک روس سے سرحد شیئر کرتے ہیں اور یہ معلومات حساس دفاعی نوعیت کی ہیں۔
تاخیر کا شکار ہونے والے ہتھیاروں میں مختلف قسم کے گولہ بارود شامل ہیں جو حملہ آور اور دفاعی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ طویل عرصے سے یورپی نیٹو ممالک پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ زیادہ امریکی ہتھیار خریدیں اور یورپ کی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھائیں۔
دوسری جانب روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شویگو نے جمعرات کو فن لینڈ اور بالٹک ریاستوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان ممالک نے یوکرینی ڈرونز کو دانستہ طور پر اپنے فضائی علاقے سے گزرنے دیا تو روس خود دفاع کا حق استعمال کرے گا۔