روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ روس کا صبر لامحدود نہیں ہے اور ایک وقت آئے گا جب یہ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے مغرب پر الزام لگایا کہ وہ یوکرین کو بڑے تنازعے کی طرف دھکیل رہا ہے اور بار بار ماسکو کی ریڈ لائنز عبور کر رہا ہے۔
ترکی کے انطالیہ ڈپلومیسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے لافروف نے کہا کہ مغرب میں یہ غلط فہمی پھیل رہی ہے کہ روس جواب دینے سے قاصر ہے یا نہیں دینا چاہتا۔ انہوں نے یوکرین کی طرف سے نیٹو ممالک کے فضائی علاقے استعمال کر کے روس پر ڈرون حملے کرنے کو ریڈ لائن کی خلاف ورزی قرار دیا۔
لافروف نے کہا، “کچھ لوگ ہمیں پیپر ٹائیگر کہہ رہے ہیں، لیکن میں ایسے موازنوں سے خبردار کرتا ہوں۔ ہمارے قومی کردار میں صبر ایک اہم صفت ہے، مگر ایک حد کے بعد صبر ختم ہو جاتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس نے جان بوجھ کر اپنی ریڈ لائنز کی واضح حد نہیں بتائی، کیونکہ یہ ابہام خود ایک حوصلہ شکنی کا ذریعہ ہے۔ صدر پیوٹن نے کئی بار کہا ہے کہ ہمارے پاس جواب دینے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں۔
لافروف نے نیٹو کو “بہترین حالت” میں نہیں قرار دیا، البتہ ان کا خیال ہے کہ یہ بلاک اب بھی جارحانہ رہے گا۔ انہوں نے یوکرین بحران کو مغرب کی طرف سے روس کے خلاف طویل تیاری کا نتیجہ قرار دیا۔