پولی ٹیکنک یونیورسٹی میں پاکستانی سفیر کا لیکچر: یوریشین شراکت داری، تعلیم اور عالمی سیاست پر جامع گفتگو

ماسکو (اشتیاق ہمدانی)

ماسکو پولی ٹیکنک یونیورسٹی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے روس میں متعین سفیر، جناب فیصل نیاز ترمذی نے ایک اہم اور جامع لیکچر دیا، جس میں پاکستان اور روس کے درمیان یوریشین روابط، بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور علاقائی تعاون کے امکانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ اس لیکچر میں نہ صرف یونیورسٹی کے طلبہ بلکہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی طلبہ اور ماہرین نے بھی شرکت کی، جبکہ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے بھی بڑی تعداد میں افراد نے اس نشست کو فالو کیا۔

اپنے خطاب میں سفیر پاکستان نے کہا کہ دنیا تیزی سے ایک کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں علاقائی شراکت داری اور اقتصادی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ کوریڈورز اور تعلیمی تعاون جیسے شعبے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر یوریشین کنیکٹیویٹی کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کی بدولت وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان نہ صرف اقتصادی روابط کو فروغ دے رہا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بھی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

سفیر نے اپنی گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر سفارتی مکالمے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہمیشہ سے امن، مذاکرات اور استحکام کی پالیسی پر کاربند رہا ہے۔

لیکچر کے بعد ایک تفصیلی سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں طلبہ نے نہایت دلچسپی کے ساتھ عالمی سیاست، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور روس کے ساتھ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے۔ ایک روسی طالب علم نے یہ سوال اٹھایا کہ روسی جامعات سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے پاکستان میں کیا مواقع موجود ہیں۔ اس پر سفیر پاکستان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں روسی تعلیم یافتہ گریجویٹس کے لیے توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں، اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔


اس موقع پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ، جن میں ایران، بنگلہ دیش، انگولا، زمبابوے اور مالی شامل تھے، نے بھی اس نشست میں بھرپور شرکت کی اور پاکستان کے عالمی کردار پر اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ خاص طور پر پاکستانی طلبہ نے سفیر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں تعلیمی اور ثقافتی مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تقریب کے دوران سفیر پاکستان نے ماسکو پولی ٹیکنک یونیورسٹی کی نائب ریکٹر برائے بین الاقوامی تعاون، یولیا داویدووا سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید وسعت دینے، پاکستانی طلبہ کے داخلوں میں اضافے اور اساتذہ و طلبہ کے تبادلے کے پروگرامز کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ ماسکو پولی ٹیکنک یونیورسٹی 2022 سے پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کو مسلسل وسعت دے رہی ہے، جس میں مقامی تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک، تعلیمی نمائشوں میں شرکت اور ثقافتی پروگرامز کا انعقاد شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

یہ لیکچر نہ صرف تعلیمی لحاظ سے اہم تھا بلکہ اس نے پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات، نوجوان نسل کے کردار اور یوریشین خطے میں نئے مواقع کی بھی واضح تصویر پیش کی۔