ٹرمپ پر ایران کے خلاف جوہری ہتھیار کے استعمال کی مبینہ کوشش کا الزام

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دینے کی کوشش کی، تاہم ایک سینئر فوجی عہدیدار نے انہیں روک دیا۔ یہ الزامات ریٹائرڈ سی آئی اے تجزیہ کار Larry Johnson کے بیانات پر مبنی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق لیری جانسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہنگامی اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر جوہری لانچ کوڈز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی، جو بند کمرے میں کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی تاحال کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے نے اس واقعے کی توثیق کی ہے۔ ان الزامات کے بعد مختلف حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے، جہاں بعض ناقدین نے جغرافیائی سیاسی بحران کے دوران قیادت کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ دیگر نے خبردار کیا ہے کہ غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق امریکا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا نظام سخت قواعد و ضوابط کے تحت کام کرتا ہے، جس میں کئی سطحوں پر تصدیق اور کمانڈ شامل ہوتی ہے۔ اگرچہ صدر بطور کمانڈر انچیف اہم اختیارات رکھتے ہیں، تاہم یہ عمل اتنا فوری یا یکطرفہ نہیں ہوتا جتنا عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے۔ تاحال ان الزامات کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ یا متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں حساس نوعیت کے دعوے کس تیزی سے پھیل سکتے ہیں، خصوصاً جب وہ عالمی کشیدگی اور اہم سیاسی شخصیات سے متعلق ہوں۔