ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی افریقہ کے قومی پولیس کمشنر Fannie Masemola کو 360 ملین رینڈ (تقریباً 21 ملین ڈالر) کے مبینہ کرپشن اسکینڈل کے بعد معطل کر دیا گیا ہے۔ صدارتی دفتر نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے احتیاطی اقدام قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ماسیمولا پر الزام ہے کہ انہوں نے صحت اور فلاحی خدمات کے ایک بڑے معاہدے میں مالی بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا۔ وہ پریٹوریا کی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں جہاں ان پر پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے چار الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ غیر قانونی طور پر دیا گیا اور اس میں کچھ پولیس افسران کو رشوت بھی دی گئی۔ ملزم کاروباری شخصیت Vusimuzi Matlala، جن کی کمپنی نے یہ متنازع معاہدہ حاصل کیا، بھی دیگر 15 افراد کے ساتھ کرپشن، فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم تمام ملزمان نے ابھی تک فردِ جرم پر باقاعدہ جواب داخل نہیں کیا، جبکہ کیس کی سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
جنوبی افریقہ کے صدر Cyril Ramaphosa نے بیان میں کہا کہ الزامات کی سنگینی اور قومی پولیس کمشنر کے اہم کردار کے پیش نظر ماسیمولا کو معطل کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے Puleng Dimpane کو قائم مقام قومی کمشنر مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوبی افریقہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کرپشن کے بڑھتے ہوئے خدشات پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ صدر رامافوسا نے اس سے قبل بھی پولیس وزیر Senzo Mchunu کے خلاف الزامات کے بعد کارروائی کی تھی اور تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا تھا۔ صدر کے مطابق مختلف تحقیقاتی رپورٹس میں پولیس کے خریداری نظام (پروکیورمنٹ) کو بدعنوانی کا بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، اور نئی قائم مقام قیادت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ان خامیوں کو فوری طور پر دور کرے گی۔