ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے آذربائیجان میں ملاقات کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ روس سنجیدہ سفارتکاری پر آمادہ ہو۔ یہ بیان انہوں نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے ہمراہ اپنے دورۂ آذربائیجان کے دوران دیا، جو روس-یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد جنوبی قفقاز کا ان کا پہلا دورہ ہے۔
صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ روس اس جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدگی دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ کیف سہ فریقی مذاکرات کے لیے تیار ہے، اور اس سے قبل ترکی اور سوئٹزرلینڈ میں بھی اس نوعیت کی بات چیت ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان اس تنازع کے حل میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے اور اگر روس آمادہ ہو تو آئندہ مذاکرات آذربائیجان میں بھی ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب کریملن ماضی میں اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات صرف ماسکو میں ہی ممکن ہے، جبکہ یوکرین نے واضح کیا ہے کہ وہ روس یا بیلاروس کے علاوہ کسی بھی ملک میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ صدر الہام علییف نے اس موقع پر کہا کہ آذربائیجان اور یوکرین دونوں ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے توانائی، تجارت اور سکیورٹی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ ملاقات کے دوران دفاعی و صنعتی تعاون اور توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ فریقین نے مستقبل میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔