اشتیاق ہمدانی
آبنائے ہرمز کے گرد صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو رہی ہے اور اس کے اثرات بتدریج وسیع تر خطے کو اپنی لپیٹ میں لیتے جا رہے ہیں۔ یہ علاقہ پہلے ہی دنیا کے حساس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے، مگر موجودہ حالات میں فوجی خطرات کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ بھی نمایاں طور پر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ خلیجی ممالک کے اندرونی مباحثوں میں بیرونی فوجی موجودگی کے کردار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جس کی ایک جھلک متحدہ عرب امارات کے سابق صدارتی مشیر کے اس بیان سے بھی ملتی ہے جس میں امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے کی بات کی گئی۔
اسی دوران توانائی سے جڑی عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین کے حلقوں میں تیل کی خرید و فروخت کے لیے ڈالر کے بجائے متبادل نظام اپنانے کی بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو نہ صرف عالمی مالیاتی نظام بلکہ امریکی اثر و رسوخ پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کی جانب سے واشنگٹن پر مالی اور سفارتی دباؤ بڑھنے کے اشارے بھی مل رہے ہیں، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات، جن میں پاکستان کی ثالثی شامل ہے، غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں اور عارضی جنگ بندی کے امکانات بھی کمزور دکھائی دیتے ہیں۔
آبنائے ہرمز اس تمام بحران کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے کیونکہ عالمی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے۔ جہاز رانی کے لیے خطرات، ممکنہ ناکہ بندی اور تجارتی جہازوں کو درپیش خدشات توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مہنگائی کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔ اس حساس راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا بھی آسان نہیں کیونکہ اس کے لیے وسیع بحری وسائل اور اتحادیوں کے درمیان ہم آہنگی درکار ہوتی ہے، جو اس وقت واضح طور پر نظر نہیں آتی۔
بین الاقوامی اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ، کی جانب سے واضح مؤقف نہ آنے کے باعث عالمی قوانین، بالخصوص سمندری راستوں کی آزادی، کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تنازع اب صرف فوجی نوعیت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں انسانی اور مذہبی پہلو بھی شامل ہو چکے ہیں۔ لبنان کے ایک گاؤں میں پیش آنے والے واقعے، جہاں ایک مذہبی مجسمے کو نقصان پہنچانے کی خبر سامنے آئی، نے اس کشیدگی کو مزید حساس بنا دیا ہے اور اسے محض ایک جغرافیائی تنازع سے بڑھا کر تہذیبی اور مذہبی رنگ دے دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم اسے فوری طور پر کسی بڑی پالیسی تبدیلی کا اشارہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ موجودہ غیر یقینی صورتحال، خصوصاً امریکی حکمت عملی کی غیر پیش گوئی نوعیت، خطے کے ممالک کو متبادل شراکت داروں جیسے ترکی اور پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر بھی آمادہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے ساتھ بعض عرب ریاستوں کا غیر علانیہ تعاون بھی بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے تناظر میں۔
ایران کے گرد جاری بحران کے حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ ایک ہی مذاکراتی مرحلے میں اس کا حل ممکن نہیں، تاہم 2026 کے موسمِ گرما تک کسی عارضی سمجھوتے کے امکانات کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب اسرائیلی قیادت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس کشیدگی کو اپنے حق میں نتائج دینے والی ثابت کرے، ورنہ اندرونی سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگر آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی مکمل ناکہ بندی ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور عالمی سیاسی تناؤ میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں بعض ممالک اپنی بحری طاقت اور دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب بھی مائل ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ایک علاقائی بحران تیزی سے عالمی سطح کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا مشکل ہے کہ آگے کیا رخ اختیار کیا جائے گا، تاہم یہ بات طے ہے کہ اس خطے میں معمولی سی کشیدگی بھی دنیا بھر پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔