ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحریہ کی ایک گشتی کشتی کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی کشتی نے اہم آبی گزرگاہ سے دور رہنے کے ایرانی انتباہات کو نظر انداز کیا۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پیر کے روز ایک نامعلوم امریکی جہاز ایرانی ساحلی شہر جاسک کے قریب موجود تھا، جو آبنائے ہرمز کے تنگ ترین مقام سے تقریباً 140 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ جہاز سکیورٹی اور بحری قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس اہم گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایرانی بحریہ کی جانب سے متعدد انتباہات کے باوجود جہاز نے اپنا راستہ تبدیل نہ کیا، جس کے بعد اسے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حملے کے بعد امریکی گشتی کشتی اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہ رہی اور اسے پسپائی اختیار کرتے ہوئے علاقے سے نکلنا پڑا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کا کوئی بھی جہاز نشانہ نہیں بنا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج “پروجیکٹ فریڈم” کی حمایت کر رہی ہیں اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے میں مدد فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق امریکی فوج مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے گی تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں، جبکہ کسی بھی مداخلت کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ بھی دی گئی۔
اس کے جواب میں ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی فوجی طاقت، خصوصاً امریکی افواج، اگر آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کرے گی تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
ادھر ایکسیوس کے صحافی باراک راوِد نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ خطے میں امریکی افواج کے قواعدِ کار میں تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت انہیں فوری خطرات، بشمول آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں اور ایرانی میزائل تنصیبات پر حملے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر سمندری تیل کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد راستہ رہی ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد یہ گزرگاہ عملی طور پر بند ہو چکی ہے اور صرف محدود تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی ناپسندیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی بحری ناکہ بندی کو “جنگی اقدام” اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔