چین میں اے آئی کے باعث ملازمین کی برطرفی غیر قانونی قرار

Robotic Army Robotic Army

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

چین میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں ایک اہم عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے، جس نے کمپنیوں کے لیے نئے قانونی اصول واضح کر دیے ہیں۔ ہانگژو کی ایک عدالت نے قرار دیا ہے کہ محض اے آئی ٹیکنالوجی کو بنیاد بنا کر ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنا غیر قانونی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی ملازم کو برطرف کرنے کے لیے ٹھوس اور قانونی جواز ہونا ضروری ہے، جبکہ صرف یہ مؤقف اختیار کرنا کہ اے آئی نے انسانی افرادی قوت کی جگہ لے لی ہے، قابلِ قبول نہیں۔ اس کے ساتھ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں غیر منصفانہ کمی کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

یہ مقدمہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے سابق ملازم کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جسے بغیر مناسب معاوضے کے ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔ کیس کے دوران اس بڑھتے ہوئے رجحان کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں اے آئی کے استعمال کے باعث متعدد کارکن اپنی ملازمتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔

ماہرین قانون کے مطابق یہ فیصلہ اے آئی کے دور میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو قانونی اور سماجی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہ کر ہی اپنایا جانا چاہیے تاکہ انسانی حقوق متاثر نہ ہوں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ دور میں کارکنوں کو نئی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو اپڈیٹ کرنا ہوگا، تاکہ وہ بدلتی ہوئی مارکیٹ اور روزگار کے تقاضوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔