ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے Venezuela سے انتہائی افزودہ یورینیم (HEU) اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جبکہ امریکی محکمہ توانائی نے اس کارروائی کو امریکا اور دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ US Department of Energy کے مطابق 13.5 کلوگرام افزودہ یورینیم وینزویلا کے ایک پرانے تحقیقی ری ایکٹر سے نکال کر امریکا منتقل کیا گیا، جہاں اسے پراسیسنگ اور دوبارہ استعمال کے لیے بھیجا جائے گا۔ امریکی محکمہ توانائی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی وینزویلا کی “بحالی اور نئے دور” کی ایک اور علامت ہے، جبکہ اس کامیابی کا کریڈٹ امریکی صدر Donald Trump کی قیادت کو دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ یورینیم سرد جنگ کے دور کے ایک سویلین تحقیقی ری ایکٹر سے حاصل کیا گیا تھا، جو “ایٹمز فار پیس” پروگرام کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ کارروائی امریکی اور بین الاقوامی جوہری عدم پھیلاؤ پروگراموں کے تحت کی گئی۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ سویلین تحقیقی مراکز میں موجود افزودہ یورینیم بھی طویل مدت میں چوری، اسمگلنگ یا غلط استعمال کا خطرہ بن سکتا ہے، اسی لیے ایسے ذخائر کو ختم کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور Iran کے درمیان ایران کے بڑے افزودہ یورینیم ذخیرے پر شدید اختلافات جاری ہیں۔ امریکا ایران سے یورینیم ذخائر کم کرنے یا بیرونِ ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ تہران اسے اپنی خودمختار جوہری حق قرار دیتا ہے۔