ایران نے ٹرمپ کی “فولادی دیوار” عبور کرلی، ایرانی میڈیا

Cargo Ship Cargo Ship

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل بردار تین جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کو عبور کرتے ہوئے پاکستانی سمندری راستوں کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں تک پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر Donald Trump نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی کو “فولادی دیوار” قرار دیا تھا، جس کا مقصد ایران کی تیل تجارت روکنا اور تہران پر جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری آئل کمپنی National Iranian Oil Company کے زیرِ استعمال خالی آئل ٹینکرز پاکستان کے خصوصی اقتصادی سمندری زون سے گزر کر ایران کی بندرگاہوں تک پہنچے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی بعض بندرگاہیں، جن میں Port of Chabahar اور Port of Jask شامل ہیں، آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہیں، جس کے باعث خلیج عمان کے راستے جہاز ایرانی حدود میں داخل ہو سکتے ہیں۔

آئی آر این اے نے بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ٹینکر ٹریکرز کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ان ٹینکرز کی مجموعی گنجائش تقریباً 50 لاکھ بیرل خام تیل کے برابر ہے۔

ادھر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ خفیہ امریکی انٹیلی جنس جائزے کے مطابق ایران کم از کم تین سے چار ماہ تک معاشی دباؤ برداشت کر سکتا ہے، اس کے بعد ہی شدید مشکلات پیدا ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے بعض آئل ٹینکرز کو سمندر میں عارضی ذخیرہ گاہوں کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ تیل کی پیداوار میں کمی کر کے انفراسٹرکچر محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ سے 7 کروڑ 50 لاکھ بیرل تک فلوٹنگ اسٹوریج کی گنجائش موجود ہے، جو جنگ سے پہلے کی برآمدات کے حساب سے تقریباً 36 سے 42 دن کے برابر بنتی ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ Pakistan نے ایران سے زمینی تجارتی روابط جاری رکھنے کے لیے مختلف ٹرانزٹ راستے بھی کھول رکھے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بحری ناکہ بندی مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ ایران طویل معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔