ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بھارت اسرائیل کے لیے “پاگل پن کی حد تک محبت” رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان “منفرد تعلق” موجود ہے۔ انہوں نے بھارت کو ویسٹ جیروسلم کے مضبوط ترین حامیوں میں سے ایک قرار دیا۔
جارڈن ویلی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹن یاہو نے کہا کہ اسرائیل دنیا بھر میں “delegitimization” کا شکار ہے، لیکن بھارت میں ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے بھارت کو “بڑی طاقت” قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کی تعریف کی۔
بھارت اور اسرائیل نے 1992 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، تاہم بھارت نے اسرائیل کو 1950 میں تسلیم کیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ہزاروں سال پرانے ہیں۔
بھارت فی الوقت اسرائیل کا ایشیا میں دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ 2022-2023 کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان تجارت 10.77 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ اس سال بھارت نے اسرائیل کے ساتھ 8.6 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے کیے ہیں۔
نیتن یاہو نے 2023 کے حماس حملے کے بعد بھارت کا شکریہ ادا کیا اور اسے اسرائیل کا “ایشیائی اتحادی” قرار دیا۔