ایران سے امن معاہدے کے باوجود حزب اللّٰہ کے خلاف جنگ نہیں روکیں گے، نیتن یاہو

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کی خاطر لبنان میں حزب اللّٰہ کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں بند نہیں کی جائیں گی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو سے سوال کیا گیا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے میں حزب اللّٰہ کے خلاف جنگ بندی شامل ہو تو کیا اسرائیل اس پر آمادہ ہوگا؟ جس پر انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا: “نہیں۔” تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر امریکی صدر Donald Trump اسرائیل پر حزب اللّٰہ کے خلاف جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں تو کیا مؤقف ہوگا، اس سوال کا انہوں نے براہِ راست جواب نہیں دیا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کو شدید کمزور کر دیا جائے یا وہاں اقتدار میں بڑی تبدیلی آ جائے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں حزب اللّٰہ، حماس اور یمن میں انصار اللّٰہ (حوثی) تحریک بھی کمزور یا ختم ہو سکتی ہے۔ نیتن یاہو کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران اسرائیل تنازع کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں خطے میں جنگ بندی اور سفارتی حل کی کوششیں مسلسل زیرِ بحث ہیں۔