ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی مشکلات کے باعث دنیا بھر میں سلفیورک ایسڈ کی فراہمی متاثر ہونے لگی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکی اخبار The Wall Street Journal کے مطابق سلفیورک ایسڈ کھادوں کی تیاری، دھاتوں کی صفائی، اسٹیل پراسیسنگ، چمڑے کی صنعت، ربڑ کی تیاری اور دیگر صنعتی شعبوں میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں سلفر کی بڑی مقدار خلیجی ممالک کی آئل ریفائنریز اور گیس پلانٹس سے حاصل کی جاتی ہے، تاہم Strait of Hormuz میں جاری کشیدگی اور بحری پابندیوں کے باعث سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اخبار نے مزید بتایا کہ China کی جانب سے سلفیورک ایسڈ کی برآمدات پر عائد نئی پابندیوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سلفر مارکیٹ کی ماہر فریڈا گورڈن کے مطابق کھادوں اور عالمی غذائی سپلائی کو لاحق خدشات کے باعث چین نے اس ماہ برآمدات محدود کر دی ہیں، جس سے عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ اور دستیابی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق United States اور Israel کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد Iran نے آبنائے ہرمز کو ان ممالک سے وابستہ جہازوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد عالمی توانائی اور صنعتی سپلائی چین متاثر ہونا شروع ہوئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو کھادوں، زرعی پیداوار اور مختلف صنعتی مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔