ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے تناظر میں کورونا وبا کے دوران نافذ کی گئی طرز کی پابندیاں دوبارہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حیدرآباد میں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران لوگوں نے گھروں سے کام کیا، ورچوئل میٹنگز اور ویڈیو کانفرنسز کا استعمال کیا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ دوبارہ انہی طریقوں کو اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو زرمبادلہ بچانے اور درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ مودی کے مطابق بھارتی شہریوں کو اپنی روزمرہ عادات اور اخراجات پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔ بھارتی وزیرِاعظم نے کہا کہ متوسط طبقے میں بیرونِ ملک شادیوں، غیر ملکی سیاحت اور تعطیلات گزارنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، تاہم موجودہ حالات میں شہری کم از کم ایک سال تک بیرونِ ملک سفر مؤخر کریں۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ایک سال تک سونے کی خریداری سے بھی گریز کریں تاکہ ملکی معیشت پر دباؤ کم ہو سکے۔ نریندر مودی نے ایندھن کے محتاط استعمال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور گیس انتہائی احتیاط سے استعمال کیے جائیں کیونکہ بھارت یہ توانائی وسائل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹ، میٹرو اور ریل کے استعمال کی ترغیب دی اور کہا کہ ایک ہی راستے پر سفر کرنے والے افراد کار پولنگ کو فروغ دیں تاکہ ایندھن کی کھپت اور زرمبادلہ کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ مودی کا کہنا تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع جیسے عالمی بحران کے دوران ایسے فیصلے کرنا ضروری ہیں جو ملک کے مفاد کو اولین ترجیح دیں۔