ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر (ہائپرٹینشن) اب صرف بڑھاپے کی بیماری نہیں رہی بلکہ تیزی سے نوجوانوں، خصوصاً 30 سے 40 سال کی عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق غیر فعال طرز زندگی، ذہنی تناؤ، ناقص غذا، موٹاپا، نیند کی کمی، سگریٹ اور شراب نوشی اس بیماری کی بڑی وجوہات ہیں۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر کسی واضح علامت کے بڑھتا رہتا ہے، اسی وجہ سے اسے “خاموش قاتل” بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین نے دو بڑی غلط فہمیوں کی نشاندہی کی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر ہمیشہ سر درد یا چکر آنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ برسوں تک بغیر کسی علامت کے موجود رہ سکتا ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ یہ صرف موٹے یا بوڑھوں کو ہوتا ہے، جبکہ نوجوان بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ غیر قابو شدہ ہائی بلڈ پریشر سے دل کا دورہ، فالج، گردوں کی بیماری اور خون کی نالیوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد یا خاندانی تاریخ رکھنے والے افراد کو باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کرانا چاہیے۔ ماہرین نے طرز زندگی میں چند تبدیلیاں اپنانے کی تجویز دی ہے جن میں نمک کا استعمال کم کرنا، باقاعدہ ورزش، وزن کنٹرول، تناؤ کم کرنا، مناسب نیند اور تمباکو نوشی سے پرہیز شامل ہے۔