ماسکو (صداۓ روس)
روس اور اس کے اتحادی بیلاروس اس ہفتے مشترکہ جوہری مشقیں کر رہے ہیں، جن کا مقصد کسی ممکنہ “جارحیت” کے خلاف ردعمل کی مشق کرنا ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے بیان میں بتایا کہ مشقیں منگل سے جمعرات تک جاری رہیں گی۔ ان میں اسٹریٹجک میزائل فورسز، شمالی اور پیسیفک بیڑے، اسٹریٹجک ایوی ایشن کمانڈ اور وسطی و شمال مغربی روس کے فوجی دستوں کے عناصر حصہ لے رہے ہیں۔ مشقوں میں 64 ہزار روسی فوجی، 7 ہزار 800 فوجی گاڑیاں، 200 میزائل لانچرز، 140 طیارے، 73 جنگی جہاز اور 13 آبدوز شامل ہیں جن میں سے آٹھ اسٹریٹجک میزائل آبدوزیں ہیں۔ بیان کے مطابق مشقوں میں بیلاروس میں تعینات جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی مشترکہ تیاری بھی شامل ہے۔ بیلاروس نے پیر کو مشقوں کی پیشگی اطلاع جاری کی تھی۔ بیلاروس 2023 سے روس کے جوہری ہتھیاروں کی میزبانی کر رہا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں امریکہ اور نیٹو کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔