سمارٹ فونز کے بعد عالمی شرحِ پیدائش میں تیزی سے کمی، تحقیق

Russian Couple Russian Couple

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

عالمی سطح پر شرحِ پیدائش میں ریکارڈ کمی آ رہی ہے اور ماہرین اسے سمارٹ فونز کی وجہ سے نوجوانوں میں آمنے سامنے کے رابطوں میں کمی سے جوڑ رہے ہیں۔
فنانشل ٹائمز نے محققین اور آبادیاتی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ متعدد ممالک میں سمارٹ فونز کی مقبولیت کے بعد شرحِ پیدائش میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے معاشیات کے پروفیسر Jesus Fernandez-Villaverde نے اسے ” ہمارے وقت کا سب سے بڑا سوال” قرار دیا اور کہا کہ موجودہ معاشی اور سماجی مسائل کی جڑیں پیدائش کی شرح میں گراوٹ سے جڑی ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ، برطانیہ، برازیل اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک میں سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال اور آمنے سامنے کے رابطوں میں کمی کو شرحِ پیدائش میں گراوٹ کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ اور برطانیہ میں 4G نیٹ ورکس کے پھیلاؤ کے بعد نوجوانوں اور type teens میں پیدائش کی شرح میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح فرانس، پولینڈ، میکسیکو، مراکش، انڈونیشیا، گھانا، نائیجیریا اور سینیگل میں بھی سمارٹ فونز کی آمد کے بعد ایسا ہی رجحان دیکھا گیا۔
یورو سٹیٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی آبادی اگلے 75 سالوں میں 11 فیصد کم ہو کر تقریباً 53 ملین افراد کم ہو جائے گی۔
اس حوالے سے روس نے 2024 میں سکولوں میں طلبہ کے لیے موبائل فونز پر پابندی لگا دی تھی تاکہ سماجی روابط کو بحال کیا جا سکے۔