روس ایران کے جائز مفادات کے تحفظ کے حق میں، مسئلے کا حل صرف سفارتکاری میں ہے: ماریا زاخارووا

ماسکو (اشتیاق ہمدانی)

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمانماریہ ذاخارووا نے ایران سے متعلق جاری بین الاقوامی صورتحال پر روس کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکراتی عمل میں ہر ممکن تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ موجودہ مسائل کا واحد قابلِ قبول حل سیاسی اور سفارتی ذرائع ہی ہیں۔

ماسکو میں میڈیا بریفنگ کے دوران ماریا زاخارووا نے کہا کہ روس اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات یا اختلافات کو طاقت، دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون، سفارتکاری اور ایران کے جائز قومی مفادات کا احترام بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

ماریہ ذاخارووا نے کہا: “روس تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے دوران طے پانے والے ممکنہ فیصلوں کے نفاذ میں ضروری معاونت فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔”

روسی ترجمان کے مطابق ماسکو اس پورے معاملے کو انتہائی حساس سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ تمام فریق تحمل، سیاسی دانشمندی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔

ماریا زاخارووا نے مزید کہا کہ روس اس بات پر قائل ہے کہ ایران کے جائز مفادات اور خودمختاری کو نظر انداز کر کے کسی بھی قسم کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر ایسے تمام اقدامات، جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں، خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

بریفنگ کے دوران جب صحافیوں نے جاری مذاکرات کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو روسی ترجمان نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اس وقت مذاکراتی عمل کی کئی اہم تفصیلات بند دروازوں کے پیچھے زیرِ غور ہیں، اس لیے ان معاملات پر کھل کر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ:

“میں سمجھتی ہوں کہ آپ ان مذاکراتی عمل کی تفصیلات جاننا چاہتے ہیں، لیکن فی الحال یہ معاملات بند دروازوں کے پیچھے زیرِ بحث ہیں۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق روس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات ایک بار پھر عالمی سفارتی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ روس مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا آ رہا ہے کہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے مذاکرات اور سیاسی رابطے ہی سب سے مؤثر راستہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے سفارتی حل پر زور دینا اس بات کی علامت ہے کہ ماسکو مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی کشیدگی یا تصادم سے بچنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے کا تیار ہے۔