اسٹاروبلسک حملے کے جواب میں روس کا کیف پر اورشینک میزائل سے حملہ

Oreshnik attack Oreshnik attack

ماسکو (صداۓ روس)

یوکرینی میڈیا اور ٹیلیگرام چینلز نے آسمان سے تیزی سے نیچے گرتے ہوئے روشن اشیاء کے کلسٹرز کی ویڈیوز گردش کرائی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ویڈیوز روس کے انٹرمیڈیٹ رینج hypersonic میزائل ’اوریسھنک‘ کے استعمال کی ہیں، جو کیئف کے قریب شہر بیلیا تسرکو میں کسی ہدف پر داغا گیا۔ ماسکو نے اس جدید نظام کے استعمال کی سرکاری تصدیق نہیں کی ہے۔ یہ ویڈیوز جنوری میں سامنے آنے والی ویڈیوز سے ملتے جلتے ہیں جب روس نے لوویو میں یوکرینی ہوائی اڈے پر اوریسھنک میزائل استعمال کیا تھا۔ یوکرینی فضائیہ کے ترجمان یوری اگنات نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ روس نے بیلیا تسرکو شہر پر اوریسھنک میزائل داغا ہے۔ ان کے مطابق میزائل جنوبی روس کے کاپوسٹن یار ٹیسٹ رینج سے لانچ کیا گیا۔ یہ حملہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے اس حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دفاعی وزارت کو لہانسک میں اسٹاروبلسک ٹیچر ٹریننگ کالج کے ہاسٹل پر یوکرینی ڈرون حملے کا جواب دینے کے لیے تجاویز پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حملے میں 21 افراد، جن میں زیادہ تر نوعمر لڑکیاں تھیں، ہلاک ہوئے تھے۔

Oreshnik attack

اس سے قبل امریکی سفارتخانے نے کیئف میں امریکی شہریوں کو 24 گھنٹوں کے اندر ممکنہ بڑے فضائی حملے سے آگاہ کیا تھا۔ اسٹاروبلسک کالج کے ہاسٹل پر جمعہ کی رات طلباء کے سوتے ہوئے وقت یوکرینی ڈرونز کے کئی حملے کیے گئے تھے، جسے ماسکو نے ایک “دہشت گردانہ کارروائی” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب لہانسک کے گورنر لیونڈ پاسچینک نے 24 اور 25 مئی کو سوگ کے دن قرار دیے ہیں۔ روس نے اوریسھنک میزائل کا پہلا سرکاری استعمال نومبر 2024 میں کیا تھا جب صدر پوٹن نے اسے Dnepropetrovsk میں Yuzhmash فوجی اڈے پر استعمال کی تصدیق کی تھی۔ یہ نظام hypersonic رفتار سے متعدد وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ماسکو کے مطابق موجودہ فضائی دفاعی نظام اسے روکنے سے قاصر ہیں۔