
تحریر: شہزاد کاظمی
روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ اب محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ اطلاعات، بیانیے اور عالمی رائے عامہ کی تشکیل کی جنگ بھی بن چکا ہے۔ میری رائے میں، موجودہ تنازعے کو سمجھنے کے لیے صرف عسکری محاذوں کا جائزہ لینا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ مختلف واقعات کو کس انداز سے پیش کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں یوکرین کی جانب سے روس کے معروف نجی آن لائن تجارتی پلیٹ فارم وائلڈ بیریز کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ ماسکو سمیت مختلف روسی شہروں میں اس کمپنی سے متعلق تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ سینٹ پیٹرزبرگ میں واقع اس کے ایک بڑے گودام پر حملے کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ مغربی ذرائع ابلاغ میں ان واقعات کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا اور متعدد حلقوں نے انہیں یوکرین کی اہم کامیابی کے طور پر بیان کیا۔
تاہم، میری دانست میں، اس تمام صورتحال کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے، جسے بین الاقوامی میڈیا میں نسبتاً کم جگہ دی جا رہی ہے۔ روسی فوج یوکرین کے مختلف محاذوں پر اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور روسی عسکری ذرائع کے مطابق متعدد علاقوں، قصبوں اور بستیوں پر اس کا کنٹرول مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دفاعی ماہرین روس کے شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کو یوکرینی افواج کی جانب سے محاذِ جنگ میں درپیش مشکلات کے ردعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔
جس وقت سینٹ پیٹرزبرگ میں وائلڈ بیریز کے گودام پر حملے کو مغربی میڈیا اور یوکرینی حلقوں میں نمایاں انداز میں پیش کیا جا رہا تھا، اسی دوران روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ روسی افواج نے خارکوف، زاپوروزیے، دنیپروپیٹروسک اور دونیسک پیپلز ریپبلک کے مختلف علاقوں میں پیش رفت کرتے ہوئے آٹھ آبادیوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔
میرے نزدیک، روس۔یوکرین تنازعے کے آغاز سے ہی مغربی میڈیا نے متعدد مواقع پر روس کے حوالے سے ایک مخصوص بیانیہ اختیار کیا۔ اس بیانیے کا بنیادی مقصد روس کو کمزور، تنہا اور شکست کے قریب دکھانا تھا۔ تنازعے کے ابتدائی مراحل میں یہ دعوے بھی کیے گئے کہ روس مختصر مدت میں شدید معاشی بحران اور دیوالیہ پن کا شکار ہو جائے گا، تاہم وقت نے ثابت کیا کہ صورتحال اتنی سادہ نہیں تھی۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ یوکرین کو اکثر ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو تنہا روس کا مقابلہ کر رہی ہے۔ لیکن میری رائے میں، عالمی سیاست سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ یوکرین کو امریکا، یورپی ممالک سمیت 52 اتحادی ریاستوں کی مسلسل فوجی، مالی، تکنیکی اور انٹیلی جنس معاونت حاصل رہی ہے۔ اسی لیے اس تنازعے کو محض روس اور یوکرین کے درمیان جنگ قرار دینا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
ماریوپول، باخموت اور پوکرووسک جیسے شہروں کی لڑائیاں اس تنازعے کے اہم ابواب ہیں۔ میری دانست میں، ان معرکوں کے دوران عالمی ذرائع ابلاغ کے بعض اندازے بعد ازاں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ روسی افواج نے مختلف محاذوں پر مرحلہ وار کارروائیوں کے ذریعے اپنے اہداف کے حصول کا دعویٰ کیا، جبکہ مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے مسلسل اس تاثر کو فروغ دیا جاتا رہا کہ روس اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔
آج بھی روس کے بڑے شہروں میں نجی تجارتی پلیٹ فارمز پر ہونے والے حملوں کو مغربی میڈیا میں فاتحانہ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب یوکرین کے مشرقی محاذوں پر جاری روسی پیش قدمی کو نسبتاً کم توجہ مل رہی ہے۔ میری رائے میں، یہی وہ تضاد ہے جو اس تنازعے کے اطلاعاتی پہلو کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
دوسری جانب، خود یوکرین کے اندر سے عسکری قیادت کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔ یوکرینی بریگیڈیئر جنرل سرجی سوبکو نے خبردار کیا کہ اگر فوجی نظام میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو یوکرین کو جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، فوجی کمانڈ کے اندر پیشہ ورانہ مباحث کو بعض اوقات ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ ترقیوں میں پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے ذاتی وابستگی کو فوقیت دیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
اسی طرح یوکرین کی سیاسی و عسکری قیادت میں حالیہ تبدیلیاں بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ملک کو صرف میدانِ جنگ ہی نہیں بلکہ داخلی سطح پر بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، عسکری قیادت میں تبدیلیوں کے پس منظر میں جنگی حکمتِ عملی اور مستقبل کے لائحۂ عمل پر اختلافات بھی شامل رہے ہیں۔
آخر میں، میری رائے میں، روس اور یوکرین کے درمیان جاری یہ تنازعہ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں عسکری کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی جنگ بھی فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ایک جانب روس اپنے فوجی اہداف کے حصول کو لے کر مسلسل کامیاب فوجی پیش قدمی کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب یوکرین اور اس کے اتحادی اپنی حکمتِ عملی کو مؤثر قرار دیتے ہوے یکطرفہ گمراہ کن بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔ تاہم، اس تمام صورتحال میں ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جنگ کا ہر گزرتا دن نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور بین الاقوامی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔