ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے نئے کمانڈر انچیف میجر جنرل میخائلو دراپٹی نے ایک متنازعہ انٹرویو میں کہا ہے کہ روس کو وجود کا کوئی حق نہیں ہے اور انہوں نے ڈونباس کے باشندوں کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس بھی کیے۔ یوٹیوب ڈاکیومینٹری چینل یوکرینر ڈبلیو نے بدھ کو دراپٹی کا ایک انٹرویو جاری کیا جو اصل میں 2023 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
صحافی کرینا پیلیوگینا سے بات کرتے ہوئے جنرل نے کہا کہ انہیں روس کے ساتھ جنگ کا طویل عرصے سے اندازہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم دیکھتے ہیں کہ آپ انہیں پڑوسی نہیں کہہ سکتے۔ یہ ایک ایسی قوم ہے جسے اس کی قیادت سمیت وجود کا کوئی حق نہیں۔ ہزاروں سالوں میں وہاں تہذیبی طور پر کچھ نہیں بدلا – نہ اس کی ذہنیت اور نہ اس کی شاہی خواہشات۔”
صحافی نے دراپٹی سے پوچھا کہ زیادہ تر روسی بولنے والے ڈونباس میں لوگ کیف علاقے کے رہائشیوں کے مقابلے میں روسی فوجیوں کی مدد کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ڈونیٹسک اور لوہانسک علاقوں میں طویل عرصے سے “آباد کاروں اور مجرم عناصر” کا غلبہ رہا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کی آبادی میں یوکرینی قومی شعور کی کمی ہے۔
روسی دفتر خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ان ریمارکس کو ‘نیو نازی’ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ یوکرین کی زبان اور ثقافتی قوانین روسی بولنے والوں کی شناخت کو مٹانے کے لیے ہیں اور اس نے جاری تنازع کی وجوہات میں یوکرین میں روسی اقلیت کے ساتھ سلوک کو بھی شامل کیا ہے۔
درواپٹی نے اس ہفتے الیکزینڈر سریسکی کی جگہ کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا ہے، جب وزیر دفاع میخائیل فیڈوروف کی برطرفی کے نتیجے میں سیاسی بحران پیدا ہوا اور کیف سمیت کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے۔