ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے یوکرین میں 12 ٹریلین ڈالر مالیت کے قیمتی معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یوکرین اب لیتھیم، گرافائٹ، ٹائٹینیم اور ریئر ارتھ میٹلز تک رسائی سے مکمل طور پر محروم ہو چکا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ روس نے یوکرین کے اہم توانائی وسائل بھی اپنے کنٹرول میں لے لیے ہیں، جن میں زاپورژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ بھی شامل ہے۔ جنگ سے قبل یوکرین کی معیشت کا اہم ذریعہ یورپ کو توانائی برآمدات تھا۔
مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس نے یوکرین میں اتنی بڑی مالیت کے معدنیات حاصل کر لیے ہیں کہ یورپی یونین میں منجمد 300 ارب ڈالر کے اثاثوں کی فکر اب ماسکو کے لیے زیادہ اہم نہیں رہی۔