الماتی (صدائےروس):
قازقستان کے نامور شاعر، مفکر، ماہرِ لسانیات، سفارت کار اور عالمی امن کے علمبردار اولژاس سلیمانوف کی 90ویں سالگرہ کے موقع پر قازقستان کے سب سے بڑے شہر الماتی میں ساتواں بین الاقوامی یوریشیائی ثقافتی قربت فورم “اپنی سرزمین کا سفیر” منعقد کیا گیا۔ اس اہم عالمی تقریب میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دانشوروں، ادیبوں، ثقافتی شخصیات، سرکاری نمائندوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی اور اولژاس سلیمانوف کی ادبی، فکری، سائنسی اور سماجی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
فورم کا انعقاد یونیسکو کے زیرِ سرپرستی بین الاقوامی مرکز برائے ثقافتی قربت نے قازقستان کی وزارتِ ثقافت و اطلاعات اور بولات اوتیموراتوف فاؤنڈیشن کے تعاون سے کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اولژاس سلیمانوف صرف قازقستان ہی نہیں بلکہ پورے یوریشیا اور عالمی برادری کی ایک ممتاز علمی و ثقافتی شخصیت ہیں جنہوں نے مختلف تہذیبوں، زبانوں اور اقوام کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
اولژاس سلیمانوف کو جدید قازق ادب کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ایک شاعر، مصنف اور محقق ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے خلاف چلنے والی مشہور تحریک “نیواڈا – سیمی پالاتنسک” کے بانی بھی ہیں۔ اس تحریک نے قازقستان کے سیمی پالاتنسک جوہری تجرباتی مرکز کی بندش میں کلیدی کردار ادا کیا اور عالمی امن کی جدوجہد میں ایک نئی مثال قائم کی۔
فورم میں فرانس، اسرائیل، ترکیہ، چین، آذربائیجان، روس اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں نے شرکت کی۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قازق نیشنل یونیورسٹی کے ممتاز مورخ اور پروفیسر ساگیمبائی قوزیبایف نے اولژاس سلیمانوف کی خدمات کو قازقستان کی قومی شناخت اور ثقافتی ترقی کا اہم حصہ قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قازقستان کی نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ ثقافت و اطلاعات عائدہ بالائیوا نے کہا کہ صدرِ قازقستان نے اولژاس سلیمانوف کو ان کی 90ویں سالگرہ پر خصوصی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اولژاس سلیمانوف نے اپنی ادبی تخلیقات، علمی تحقیقات اور عوامی خدمات کے ذریعے نہ صرف قازقستان بلکہ پوری دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ان کی شخصیت قومی ثقافت کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر قازقستان کے مثبت تشخص کی علامت بن چکی ہے۔
فورم کے دوران بولات اوتیموراتوف فاؤنڈیشن کی جانب سے اولژاس سلیمانوف کی تصانیف کے نئے ایڈیشنز بھی پیش کیے گئے۔ فاؤنڈیشن کی جنرل ڈائریکٹر آئینور کاربوزووا نے بتایا کہ ان کے ادارے نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اولژاس سلیمانوف کے ادبی اور فکری ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے متعدد منصوبوں کی سرپرستی کی ہے۔ ان میں ان کی مشہور کتاب “آز اور یا”، تصنیف “اپنی سرزمین کا سفیر” اور 90ویں سالگرہ کے موقع پر شائع ہونے والی “کتابِ نظمیں” شامل ہیں۔
بین الاقوامی ترک ثقافت و ورثہ فاؤنڈیشن کی صدر آقتوتی رائمقولوا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اولژاس سلیمانوف صرف قازقستان ہی نہیں بلکہ پوری ترک دنیا کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اولژاس سلیمانوف مختلف تہذیبوں اور قوموں کے درمیان ایک زندہ پل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی شخصیت عالمی سطح پر امن، مکالمے اور ثقافتی ہم آہنگی کی نمائندہ ہے۔ انہوں نے خاص طور پر آذربائیجان اور دیگر ترک ریاستوں میں اولژاس سلیمانوف کی مقبولیت اور احترام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ادبی اور انسانی خدمات نسلوں تک یاد رکھی جائیں گی۔
یونیسکو کے تحت قائم بین الاقوامی مرکز برائے ثقافتی قربت کے نائب ڈائریکٹر ایگور کروپکو نے کہا کہ اس فورم کا بنیادی مقصد اولژاس سلیمانوف کے فلسفہ، نظریات اور فکری ورثے کو جدید عالمی ثقافتی اور تعلیمی نظام کا حصہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اولژاس سلیمانوف نے مختلف اقوام کے درمیان باہمی انحصار، ثقافتی ہم آہنگی اور مکالمے کے جو تصورات پیش کیے، وہ آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
فورم میں شریک مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اولژاس سلیمانوف کی شخصیت ادب، سائنس، سفارت کاری، امن اور انسانی اقدار کے امتزاج کی بہترین مثال ہے۔ ان کی تحریریں اور نظریات آج بھی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور مختلف قوموں کے درمیان بہتر تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کو اعزازی اسناد اور یادگاری اعزازات سے نوازا گیا۔ آذربائیجان کے میڈیا ادارے “وائس پریس” کی خصوصی نمائندہ اور صحافی جمیلیا چیبوتاریوا کو فورم میں فعال شرکت اور ثقافتی روابط کے فروغ میں کردار ادا کرنے پر خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔
اولژاس سلیمانوف کی 90ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی فورم اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کی ادبی، فکری اور انسانی خدمات نہ صرف قازقستان بلکہ پوری دنیا میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ان کا علمی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے امن، مکالمے اور بین الثقافتی ہم آہنگی کا روشن پیغام بن کر زندہ رہے گا۔