امریکہ سفارت کاری نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان سمجھتا ہے، ایران

Iranian Missile Iranian Missile

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کے بجائے میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ابراہیم رضائی نے ایرانی مسلح افواج، بالخصوص پاسدارانِ انقلاب کی بحری اور فضائی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، ایک فضائی اڈے اور دیگر فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے کے جنوب میں واقع ایک مواصلاتی ٹاور پر مبینہ امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے بعد اس نے ایک ایسے بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا جسے ایرانی حکام نے امریکی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک قرار دیا۔

تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر یا دیگر تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی حکام کے مطابق تمام خطرات کو بروقت ناکام بنا دیا گیا اور کسی بھی امریکی فوجی اڈے یا تنصیب پر کامیاب حملہ نہیں ہوا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے دعوؤں اور اقدامات پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔