ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سپلائی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 97 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت بھی اضافے کے بعد 96 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال، عالمی منڈی میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سامنے آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی ترسیل کے اہم راستوں پر خطرات میں اضافہ ہوا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔