ماسکو (صداۓ روس)
روسی طیارہ ساز ادارے یونائیٹڈ ایئرکرافٹ کارپوریشن (یو اے سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی ایئر لائنز نے 100 سے 200 تک روسی مسافر طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم (ایس پی آئی ای ایف) سے قبل روسی خبر رساں ادارے تاس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یو اے سی کے سربراہ وادیم بادیکھا نے کہا کہ بھارت روسی فضائی صنعت میں سنجیدہ دلچسپی ظاہر کرنے والا پہلا ملک تھا۔ انہوں نے بتایا کہ روس نے “ونگز انڈیا” نمائش میں اپنے ایس جے-100 اور آئی ایل-114-300 طیارے پیش کیے تھے، جہاں بھارتی ایئر لائنز نے ان دونوں ماڈلز میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر 100 سے 200 طیاروں کی خریداری پر بات چیت ہو رہی ہے۔
وادیم بادیکھا کا کہنا تھا کہ بھارت کو اس نوعیت کے مسافر طیاروں کی نمایاں ضرورت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یو اے سی نے بھارتی سرکاری فضائی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے ساتھ ایس جے-100 طیاروں کی لائسنس یافتہ پیداوار کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو بھارت میں پہلے “سپر جیٹ” طیارے کی پیداوار آئندہ تین برسوں میں شروع ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں سالانہ 20 سے 40 طیارے تیار کرنے کی صلاحیت ایک مناسب رفتار ہوگی، جبکہ بھارتی اور قریبی علاقائی منڈیوں میں 200 سے 300 طیاروں کی گنجائش موجود ہے۔
یو اے سی کے سربراہ نے مزید کہا کہ روس کا خیال ہے کہ آئی ایل-114-300 طیارے کی پیداوار کو بھی بھارت میں مقامی سطح پر منتقل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ اے ایل کے ساتھ معاہدے کے علاوہ یو اے سی نے بھارتی نجی کمپنی فلیمنگو ایرو اسپیس کے ساتھ ابتدائی معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت چھ آئی ایل-114-300 طیاروں کی فراہمی کا منصوبہ شامل ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی فضائی صنعت عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھانے اور ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔