ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور یورپی ممالک دونباس سمیت ان علاقوں میں پیدا ہونے والی نئی زمینی حقیقتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں جن پر روس کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔ آر ٹی عربی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سرگئی لاوروف نے کہا کہ جنوب مشرقی یوکرین کے عوام اور روسی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والی زمینی صورتحال کو تسلیم کرنے کے حوالے سے زیلنسکی نے کھلے عام مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کو قبول نہیں کریں گے۔ روسی وزیرِ خارجہ کے مطابق یورپی ممالک بھی اس مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیلنسکی کی حکمت عملی جنگ کو روک کر دوبارہ منظم ہونے اور بعد ازاں ان علاقوں کو فوجی طاقت کے ذریعے واپس لینے پر مبنی ہے۔ لاوروف نے کہا کہ روس سمجھتا ہے کہ موجودہ زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے کسی پائیدار سیاسی حل تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے بقول تنازع کے حل کے لیے زمینی صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران ڈونباس اور دیگر علاقوں کی حیثیت عالمی سفارتی مباحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے، جبکہ کیف اور اس کے مغربی اتحادی روس کے علاقائی دعوؤں کو تسلیم نہیں کرتے۔