پاکستان میں پرانی اور کلاسک گاڑیوں کو تیار کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا

Car Pakistan Car Pakistan

اسلام آباد (صداۓ روس)

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران پرانی اور کلاسک گاڑیوں کی بحالی (Restoration) کا رجحان نمایاں طور پر بڑھتا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ مہنگائی، درآمدی ڈیوٹیز اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث نئی گاڑیاں عام صارف کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ پرانی گاڑیوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف صارفین کو متاثر کیا ہے بلکہ آٹو مارکیٹ کے رجحانات کو بھی بدل دیا ہے۔ اسی صورتحال میں کلاسک گاڑیوں کی مرمت اور بحالی ایک نسبتاً سستا اور دلچسپ متبادل بن کر سامنے آیا ہے، جس میں پرانی گاڑیوں کو جدید انداز میں دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔

اس رجحان نے ملک میں ایک نیا ہنر مند طبقہ بھی پیدا کیا ہے، جہاں مکینکس اور کاریگر کلاسک گاڑیوں کی باڈی، انجن اور اندرونی حصوں کو دوبارہ بحال کرنے میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ کئی ورکشاپس اب مکمل طور پر پرانی گاڑیوں کی بحالی کے کام سے منسلک ہو چکی ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

شوقین افراد کا کہنا ہے کہ کلاسک گاڑیوں کی بحالی صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، کیونکہ یہ گاڑیاں ماضی کی یادوں، ڈیزائن اور انجینئرنگ کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو مزید فروغ دیا ہے، جہاں لوگ اپنی بحال شدہ گاڑیوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر کے دوسروں کو متاثر کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان مستقبل میں مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نہ صرف معاشی طور پر فائدہ مند ہے بلکہ ایک ثقافتی اور تخلیقی سرگرمی بھی ہے جو پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں نیا رنگ بھر رہی ہے۔