ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نیٹو کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر جنرل الیکسس گرینکیوچ نے کہا ہے کہ روس نیٹو کے ساتھ کسی قسم کے فوجی تصادم کا خواہاں نہیں اور اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ ماسکو نیٹو کے رکن ممالک پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ برلن میں منعقدہ آئی ایل اے ایئر شو کے موقع پر ایک مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل گرینکیوچ نے کہا کہ انہوں نے روس سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کا بغور جائزہ لیا ہے اور ان کے مطابق روس کسی نئے تنازع کی تلاش میں نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس بخوبی جانتا ہے کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے اور اس کے پاس کئی ایسے اسٹریٹجک اور عسکری فوائد موجود ہیں جو اسے مضبوط پوزیشن میں رکھتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ کے بعض سیاسی اور فوجی رہنما مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ نیٹو کو آئندہ برسوں میں روس کے ساتھ ممکنہ محاذ آرائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جرمنی کے اعلیٰ فوجی افسر جنرل کارسٹن بروئر نے حال ہی میں کہا تھا کہ نیٹو کو 2029 تک کسی ممکنہ تصادم کے لیے مکمل تیاری کر لینی چاہیے، جبکہ بعض مشرقی یورپی ممالک بھی دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب جمہوریہ چیک کے صدر پیٹر پاویل نے نیٹو پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت کا زیادہ واضح اظہار کرے، جبکہ لیتھوانیا کے وزیر خارجہ کی جانب سے روس کے کالینن گراڈ خطے کے بارے میں دیے گئے بیانات نے بھی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ کریملن نے ان بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ بعض یورپی سیاست دان روس کے خلاف غیر معمولی دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے بھی ایک بار پھر واضح کیا تھا کہ روس کا نیٹو یا یورپ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق روس کے لیے نیٹو ممالک کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوئی منطق موجود نہیں اور ایسے دعوے محض اشتعال انگیزی اور پروپیگنڈا ہیں۔ اسی دوران جرمن بحریہ کے سابق سربراہ وائس ایڈمرل (ر) کائے آخم شونباخ نے خبردار کیا ہے کہ یورپ غیر محسوس انداز میں خود کو ایک بڑے تنازع کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ میں پائیدار امن اور استحکام روس کے ساتھ تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ اس کے خلاف محاذ آرائی کے ذریعے۔