ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانس، جرمنی اور اٹلی نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ چاروں یورپی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے بین الاقوامی برادری اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی واضح، قابلِ تصدیق اور عملی اقدامات سے مشروط ہوگی۔ یورپی ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنا ناگزیر ہے، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کا تسلسل ضروری ہے اور تمام فریقوں کو مذاکرات اور سیاسی حل کو ترجیح دینی چاہیے۔ یورپی ممالک نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل خطے میں امن کے قیام اور مستقبل میں مزید تنازعات سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوگا۔