ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے جنوبی علاقے میں امریکی فضائیہ کا ایک بی ففٹی ٹو بمبار طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ طیارے کے پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد پیش آیا، جب وہ ایک صحرائی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق حادثے کے فوراً بعد جائے وقوعہ سے دھوئیں کے بلند بادل اٹھتے دیکھے گئے، جبکہ امدادی اور ہنگامی سروسز کی ٹیمیں فوری طور پر علاقے میں پہنچ گئیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیارہ زمین سے ٹکرانے کے بعد مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور ملبے میں آگ بھڑک اٹھی۔ رپورٹس کے مطابق بی ففٹی ٹو بمبار طیارہ عام طور پر پانچ اہلکاروں پر مشتمل عملہ لے کر پرواز کرتا ہے، تاہم حادثے کے وقت طیارے میں موجود افراد کی درست تعداد اور ان کی شناخت کے حوالے سے فوری طور پر کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ حادثہ ایڈورڈز ایئرفورس بیس کے قریب پیش آیا، جہاں سیکیورٹی اور فوجی حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ حادثے کے وقت طیارے میں کسی قسم کا اسلحہ یا بم موجود تھے یا نہیں۔
بی ففٹی ٹو بمبار طیارہ 1955 سے امریکی فضائیہ کے زیر استعمال ہے اور اسے دنیا کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے فوجی طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ طیارہ روایتی اور جوہری دونوں اقسام کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکی فضائی دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ابتدائی طور پر کسی ممکنہ فنی خرابی یا دیگر عوامل کے بارے میں کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا۔