ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی معاہدہ طے پانے کے بعد اب امریکا اپنی توجہ یوکرین تنازع کے حل پر مرکوز کرے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یوکرین بحران کے خاتمے کے لیے بھی پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اب اگلا اہم ہدف یوکرین تنازع کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موضوع پر وہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کریں گے۔ امریکی صدر نے روسی صدر صدر پوتن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ حالیہ ٹیلیفونک رابطوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے ساتھ ان کی گفتگو انتہائی مفید رہی۔ ان کے مطابق یہ بات چیت مستقبل کی سفارتی کوششوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر پوتن نے 14 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی 80ویں سالگرہ پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا تھا۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے سمیت دیگر بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق روسی صدر نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ روسی تنصیبات پر حملوں یا دیگر فوجی اقدامات سے یوکرین کے محاذ پر زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر یوکرینی قیادت براہ راست ملاقات کی خواہش رکھتی ہے تو ماسکو بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جی سیون اجلاس کے دوران اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ بھی یوکرین کے مسئلے پر مشاورت کریں گے تاکہ جنگ کے خاتمے اور سیاسی حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔