ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں: ایرانی تنظیم

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران کی اسلامی متحدہ نوجوان تنظیم کے بین الاقوامی امور کے شعبے نے ایک تفصیلی بیان میں امریکہ اور اسرائیل پر ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے خلاف کھلی جارحیت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ فوجی حملے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

بیان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف شہروں میں دفاعی تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور بعض شہری مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی قیادت اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کو ہدف بنانے کی کوشش کو بھی دہشت گردی قرار دیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطے اور مذاکرات جاری تھے۔ تنظیم کے مطابق ایران نے ممکنہ خطرات کے باوجود مذاکراتی عمل جاری رکھا تاکہ عالمی برادری پر واضح ہو سکے کہ ایران امن اور سفارت کاری کا خواہاں ہے جبکہ جارحیت کا راستہ اختیار کرنے والے دوسرے فریق ہیں۔

تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران نے اپنی جدید تاریخ میں کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کی پالیسی اپنائی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے عسکری اقدامات صرف دفاعی نوعیت کے تھے اور ان کا مقصد ملک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ تھا۔

بیان میں اسرائیل اور امریکہ پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ خطے میں اپنی مرضی کا سیاسی و سکیورٹی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں، جس کا مرکز اسرائیل ہو اور جس کے ذریعے مغربی ایشیا پر مکمل اثر و رسوخ قائم کیا جا سکے۔ تنظیم کے مطابق اس حکمت عملی کا ایک اہم مقصد چین اور روس جیسے عالمی طاقتوں کے اثرات کو بھی خطے سے محدود کرنا ہے۔

ایرانی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اہداف میں ایران میں نظام کی تبدیلی، اسلامی جمہوریہ کو دباؤ کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا، دفاعی و جوہری صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور ایران کو ایک تابع ریاست میں تبدیل کرنا شامل تھا۔ تاہم بیان کے مطابق یہ تمام مقاصد حاصل نہیں ہو سکے اور ایرانی قوم نے بیرونی دباؤ کے باوجود مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔

بیان میں فلسطین اور غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیل کی پالیسیوں نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے اور خطے میں مزاحمتی تحریکوں کو مزید تقویت ملی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ مزاحمتی محاذ مختلف ممالک میں مقامی حمایت اور خودمختار فیصلوں کی بنیاد پر کام کرتا ہے اور اسے محض کسی ایک ملک کا نمائندہ یا پراکسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اسلامی متحدہ نوجوان تنظیم نے اقوام متحدہ، اسلامی ممالک، غیر وابستہ تحریک (NAM) اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی واضح مذمت کریں اور خطے میں امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھائیں۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں اور ایرانی قوم تاریخ کی طرح اس بار بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ تنظیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔