روسی جنگی جہاز کی مبینہ وارننگ فائرنگ، برطانیہ نے تحقیقات شروع کردیں

Russian navy Ship Russian navy Ship

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی بحریہ کے جنگی جہاز **ایڈمرل گریگورووچ** کی جانب سے برطانوی رجسٹرڈ یاٹ کے قریب مبینہ طور پر وارننگ فائرنگ کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ منگل کے روز انگلش چینل میں اُس وقت پیش آیا جب روسی جنگی جہاز بین الاقوامی سمندری حدود میں آئل آف وائٹ اور فرانس کے ساحلی علاقے نورمنڈی کے درمیان سفر کر رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق یاٹ کے عملے نے برطانوی کوسٹ گارڈ کو اطلاع دی کہ روسی جنگی جہاز سے تقریباً 500 گز کے فاصلے سے فائرنگ کی گئی۔ تاہم یاٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع نے واقعے کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگلش چینل میں پیش آنے والے اس مبینہ واقعے سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی صورتحال کے بارے میں واضح مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ روسی جنگی جہاز ایڈمرل گریگورووچ اس وقت برطانوی بحریہ کے گشتی جہاز **ایچ ایم ایس مرسی** کی نگرانی میں تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں جہاز ایک دوسرے سے کتنے فاصلے پر تھے اور آیا روسی عملے نے کسی سرگرمی کو خطرہ سمجھتے ہوئے وارننگ فائرنگ کی یا نہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل برطانوی کمانڈوز نے انگلش چینل میں ایک ایسے آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا تھا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ روسی تیل لے جا رہا تھا۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس جہاز کو روس کے نام نہاد “شیڈو فلیٹ” کا حصہ قرار دیا تھا۔ اس پس منظر میں تازہ واقعہ نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔