ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں رکن ممالک نے روس پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جی سیون رہنماؤں نے کہا ہے کہ یوکرین کی صورتحال کے تناظر میں روسی معیشت، خصوصاً تیل اور گیس کے شعبے، کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کیا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق جی سیون ممالک روسی جنگی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئے اقدامات اختیار کریں گے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ توانائی کے شعبے کو بھی پابندیوں کے دائرہ کار میں مزید شامل کیا جائے گا تاکہ روس کی آمدنی کے اہم ذرائع کو محدود کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے عالمی توانائی منڈی کو نسبتاً استحکام حاصل ہوگا، جس کے نتیجے میں روسی تیل و گیس کے شعبے پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے سازگار حالات پیدا ہوئے ہیں۔
جی سیون ممالک کا مؤقف ہے کہ روس پر اقتصادی اور مالیاتی پابندیوں کا مقصد ماسکو کی جنگی صلاحیتوں کو محدود کرنا اور یوکرین تنازع کے حوالے سے اس پر بین الاقوامی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ دوسری جانب روس متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ مغربی پابندیاں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور روسی معیشت ان کے باوجود کام جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جی سیون ممالک واقعی روس کے توانائی کے شعبے کے خلاف مزید اقدامات کرتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔