اسپین میں غیرقانونی تارکینِ وطن کی درخواستوں کی تعداد 9 لاکھ تک پہنچ گئی

immigrants boat immigrants boat

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

اسپین میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے حکومتی پروگرام کے تحت تقریباً 9 لاکھ افراد نے اپنی حیثیت باقاعدہ بنانے کے لیے درخواستیں جمع کرا دی ہیں، جو حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسپین کی وزارتِ مہاجرت کے مطابق پروگرام کے آغاز سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ تقریباً 5 لاکھ افراد درخواست دیں گے، تاہم اب یہ تعداد 9 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور ماہرین کے مطابق پروگرام کے اختتام تک ایک ملین سے تجاوز کر سکتی ہے۔

پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سی ای اے آر کا کہنا ہے کہ درخواستوں کی غیر معمولی تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسپین میں بڑی تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں جو برسوں سے قانونی حیثیت کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ وزارتِ مہاجرت کے مطابق اب تک تقریباً 40 فیصد درخواستوں کی منظوری دی جا چکی ہے اور لگ بھگ 3 لاکھ 60 ہزار افراد کو عارضی ورک پرمٹ جاری کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما البرٹو نونیز فیخو نے اس منصوبے کو “غیر منصفانہ، غیر محفوظ اور ناقابلِ عمل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث جرائم پیشہ گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی عام معافی مستقبل میں مزید غیر قانونی ہجرت کو فروغ دے سکتی ہے اور عوامی خدمات، رہائش اور صحت کے شعبوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔

اس کے برعکس وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حکومتی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسپین ایک خوش آمدید کہنے والا ملک ہے اور یہ اقدام انسانی وقار، سماجی یکجہتی اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی حیثیت دینے سے ہزاروں افراد کو بہتر روزگار اور سماجی تحفظ حاصل ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق اسپین کے امیگریشن نظام میں تاخیر کے باعث کولمبیا، سینیگال اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کئی برسوں سے پناہ کی درخواستوں کے فیصلے کے منتظر ہیں اور اس دوران غیر رسمی شعبوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کے مختلف ممالک میں امیگریشن پالیسیوں پر بحث جاری ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اسپین یورپی یونین میں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی تارکینِ وطن آبادی والا ملک بن چکا ہے، جہاں گزشتہ سال تارکینِ وطن کی تعداد میں تقریباً 7 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔