اسٹاک ہوم (انٹرنیشنل ڈیسک)
سویڈن کی پارلیمنٹ نے ایک متنازع قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت بعض سرکاری اداروں کے ملازمین کو غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے بارے میں پولیس کو اطلاع دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ یہ قانون انتہائی معمولی اکثریت سے منظور ہوا، جہاں 174 ارکان نے حمایت اور 172 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ “واپسی کے اقدامات کو مضبوط بنانے” کے عنوان سے منظور کیے گئے اس قانون کے مطابق ٹیکس ادارے، روزگار سروس، سماجی انشورنس ادارے، پنشن اتھارٹی، نفاذِ قانون کے محکمے اور جیل و اصلاحی نظام کے ملازمین اگر کسی شخص کے بارے میں یہ شبہ رکھیں کہ وہ قانونی طور پر سویڈن میں رہائش کا حق نہیں رکھتا تو وہ اس کی معلومات پولیس کو فراہم کر سکیں گے۔
سویڈش حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنائے گا اور ملک بدری کے فیصلوں پر عمل درآمد میں مدد دے گا۔ قانون کے تحت حکام کو مشتبہ افراد کے موبائل فون کی تلاشی لینے اور شناختی معلومات حاصل کرنے کے لیے فنگر پرنٹس اور تصاویر کے استعمال کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
وزیرِ ہجرت یوان فورشیل نے اس قانون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے سے غیر قانونی طور پر قائم “سایہ معاشرے” کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور حزبِ اختلاف نے اس قانون پر شدید تنقید کی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور کمزور طبقات کو سرکاری اداروں سے رابطہ کرنے سے روک سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم سیول رائٹس ڈیفینڈرز کے قانونی سربراہ John Stauffer نے خبردار کیا کہ اس قانون سے “مخبری پر مبنی معاشرہ” وجود میں آسکتا ہے، جو سویڈش جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ابتدائی مسودے میں اسکولوں، اسپتالوں اور سماجی خدمات کے اداروں کو بھی مشتبہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی اطلاع دینے کا پابند بنانے کی تجویز شامل تھی، تاہم شدید عوامی ردعمل اور طبی شعبے کے اعتراضات کے بعد ان شقوں کو نکال دیا گیا۔ یہ قانون 13 جولائی سے نافذ العمل ہوگا۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام سویڈن کی ہجرت پالیسی میں جاری سختی کا حصہ ہے، جو 2015 کے یورپی مہاجر بحران کے بعد مسلسل زیادہ سخت ہوتی جا رہی ہے۔ ایک وقت میں مہاجرین کے لیے نرم پالیسی رکھنے والا سویڈن اب غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور ملک بدری کے اقدامات کو ترجیح دے رہا ہے۔