امریکا کا “برتھ ٹورازم” کے خلاف عالمی کریک ڈاؤن، سینکڑوں ویزے منسوخ

Pregnant women Pregnant women

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکا نے نام نہاد “برتھ ٹورازم” کے خلاف عالمی سطح پر سخت کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے سینکڑوں ویزے منسوخ کر دیے ہیں اور ایسے نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات شروع کر دیے ہیں جو غیر ملکی شہریوں کو امریکا جا کر بچوں کی پیدائش کے ذریعے شہریت حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتے تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کو صرف اس مقصد کے لیے سیاحتی ویزا حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ امریکا میں بچے کی پیدائش کے ذریعے اس کے لیے امریکی شہریت حاصل کرے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ویزا فراڈ کی روک تھام ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں درخواست گزار اپنے سفر کا اصل مقصد چھپاتے ہیں یا منظم گروہوں کی مدد سے غلط معلومات فراہم کرتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق بعض نیٹ ورکس ہزاروں ڈالر وصول کر کے افراد کو ویزا حاصل کرنے کے طریقے سکھاتے اور قونصلر افسران کے سامنے غلط بیانی کی ترغیب دیتے تھے۔ اسی تناظر میں مختلف ممالک میں سرگرم ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

امریکا میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت کا حق آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت حاصل ہے، جس کے مطابق امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والا تقریباً ہر بچہ خودکار طور پر امریکی شہری تصور کیا جاتا ہے، چاہے اس کے والدین کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔ تاہم امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ویزا قوانین کی خلاف ورزی اور غلط معلومات کی بنیاد پر اس سہولت سے فائدہ اٹھانا ناقابل قبول ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھی ایسے اقدامات متعارف کرائے گئے تھے جن کے تحت قونصلر افسران کو اختیار دیا گیا تھا کہ اگر انہیں شبہ ہو کہ کسی درخواست گزار کا بنیادی مقصد امریکا میں بچے کی پیدائش کے ذریعے شہریت حاصل کرنا ہے تو وہ ویزا دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔ یہ قواعد آج بھی نافذ العمل ہیں۔

امریکی تحقیقات کے مطابق اس رجحان سے وابستہ بعض افراد میں چینی اور روسی شہری بھی شامل رہے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات امریکا میں سالانہ پیدائشوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں اور پیدائش کی بنیاد پر شہریت امریکی آئینی نظام کا ایک دیرینہ اصول ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ویزا فراڈ کی روک تھام، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔