اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلات کا رقبہ انتہائی کم ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کے کل رقبے کا بہت چھوٹا حصہ ہی جنگلات پر مشتمل ہے، جبکہ آبادی میں تیزی سے اضافہ، غیر قانونی کٹائی، ایندھن کے لیے لکڑی کا استعمال، زرعی اراضی کی توسیع اور شہری پھیلاؤ جنگلات کے مسلسل سکڑنے کی اہم وجوہات ہیں۔ جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ یہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے، بارشوں کے نظام کو بہتر بنانے، زمین کو کٹاؤ سے بچانے، زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو برقرار رکھنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جنگلات بے شمار جنگلی جانوروں، پرندوں اور نایاب انواع کا قدرتی مسکن بھی ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں، گلیات، مری، ناران، کاغان، سیرین ویلی، ہزارہ اور دیگر پہاڑی خطوں میں جنگلات کی کٹائی کے باعث جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان علاقوں میں کبھی عام پائے جانے والے **کالا ریچھ** اور **عام چیتا** تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ دیگر نایاب جانور بھی اپنے قدرتی مسکن سے محروم ہو رہے ہیں۔ جنگلات میں لگنے والی آگ، جو اکثر انسانی غفلت کا نتیجہ ہوتی ہے، اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگلات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو ماحولیاتی آفات، پانی کی قلت، شدید گرمی، سیلاب اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، مقامی آبادی، ماحولیاتی تنظیمیں اور عام شہری مل کر شجرکاری، جنگلات کے تحفظ اور غیر قانونی کٹائی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ایک درخت لگانا صرف ایک پودا اگانا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور سرسبز مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔