ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت نے جون کے دوران روس سے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، حالانکہ روسی تیل کی خریداری کے لیے امریکہ کی جانب سے دی گئی تیسری پابندیوں سے استثنیٰ کی مدت گزشتہ ہفتے ختم ہو چکی ہے۔ توانائی کے شعبے کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں 19 تاریخ تک بھارت نے روس سے یومیہ اوسطاً 26 لاکھ 60 ہزار بیرل خام تیل درآمد کیا، جبکہ مئی میں یہ مقدار تقریباً 19 لاکھ 10 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی تیل پر دی جانے والی رعایتوں اور ملکی طلب میں اضافے کے باعث جون کے اختتام تک یہ درآمدات 23 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ سے بھارتی خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ جون کے دوران امریکہ سے یومیہ صرف 91 ہزار بیرل تیل درآمد کیا گیا، جبکہ مئی میں یہ مقدار 2 لاکھ 52 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ بھارت، جو دنیا کا تیسرا بڑا توانائی درآمد کنندہ ملک ہے، نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے تیل خریدنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ یو اے ای سے درآمدات معمولی کمی کے ساتھ 6 لاکھ 36 ہزار بیرل یومیہ رہیں، جبکہ سعودی عرب سے 3 لاکھ 84 ہزار بیرل یومیہ خام تیل درآمد کیا گیا۔ اسی عرصے میں وینزویلا بھارت کا چوتھا بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک بن گیا، جہاں سے یومیہ 2 لاکھ 9 ہزار بیرل خام تیل خریدا گیا۔
امریکی انتظامیہ ماضی میں بھارت پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ روسی تیل پر انحصار کم کرے اور متبادل ذرائع سے خریداری بڑھائے۔ تاہم بھارتی ریفائنریاں رعایتی نرخوں پر دستیاب روسی تیل کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔ امریکی پابندیوں سے استثنیٰ کی مدت 17 جون کو ختم ہو گئی تھی۔ اگرچہ واشنگٹن نے اس استثنیٰ میں ماضی میں کئی مرتبہ توسیع کی، تاہم حالیہ اطلاعات کے مطابق مزید توسیع کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بعد مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں اضافہ متوقع ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی روسی تیل کی بڑھتی ہوئی درآمدات عالمی توانائی منڈی میں روس کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ نئی دہلی اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے معاشی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔