روسی فوج میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹک نظاموں کا استعمال جاری، وزیرِ دفاع

Russian robot solider Russian robot solider

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزیرِ دفاع آندرے بیلوسوف نے کہا ہے کہ روسی مسلح افواج میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور روبوٹک نظاموں کو تیزی سے شامل کیا جا رہا ہے تاکہ فوجی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے فوجی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل افسران کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ روسی افواج جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام، روبوٹک پلیٹ فارمز اور مربوط کمانڈ و کنٹرول سسٹمز کو فعال طور پر اپنا رہی ہیں۔ انہوں نے نئے افسران پر زور دیا کہ وہ نہ صرف ان جدید ٹیکنالوجیز سے مکمل واقفیت حاصل کریں بلکہ میدانِ جنگ میں ان کے مؤثر اور تخلیقی استعمال کے نئے طریقے بھی وضع کریں۔ ان کے بقول مستقبل کی جنگوں میں جدید ٹیکنالوجی کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، تاہم انسانی صلاحیت اور فیصلہ سازی کی اہمیت برقرار رہے گی۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہر خودکار نظام اور ہر الگورتھم کے پیچھے ایک انسان موجود ہوتا ہے، اس لیے فوجی قیادت، اہلکاروں کا مؤثر انتظام، نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنا ایک افسر کی بنیادی خصوصیات رہیں گی۔ انہوں نے خصوصی فوجی آپریشن کے دوران حاصل ہونے والے جنگی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تجربات کا گہرائی سے جائزہ لے کر انہیں جدید عسکری حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ مختلف یونٹس کی جنگی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
بیلوسوف کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور عملی جنگی تجربے کا امتزاج روسی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائے گا اور مستقبل میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بنیاد فراہم کرے گا۔