ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
سربیا کے صدر الیگزینڈر ووسیچ نے اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ بیلگریڈ میں حامیوں کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ چند ہفتوں تک عہدے پر برقرار رہیں گے اور پھر ابتدائی صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا اعلان کریں گے۔ یہ اعلان حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان سامنے آیا ہے جو 2024 میں نووی ساد ریلوے اسٹیشن کے سانحے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ اس سانحے میں 16 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ووسیچ نے اپنے فیصلے کی وجہ نہیں بتائی، البتہ کہا کہ “کوئی چیز زندگی بھر کے لیے نہیں ہوتی اور شکر ہے کہ نہیں ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ وہ مئی 2027 تک عہدے پر نہیں رہیں گے اور “صرف چند ہفتوں تک صدر رہوں گا، پھر مستعفی ہو جاؤں گا۔ صدر نے خطاب میں زور دیا کہ سربیا کو فوجی غیر جانبداری اور سیاسی آزادی برقرار رکھتے ہوئے یورپی یونین کی طرف اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ ہم خود اپنے آسمان کی حفاظت کریں، نہ کہ کوئی غیر ملکی فوج ہمارا تحفظ کرے۔”
انہوں نے یورپی یونین پر الزام لگایا کہ وہ سربیا پر ای میل کے ذریعے حکمرانی کرنا چاہتی ہے اور ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات ختم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ووسیچ نے کہا کہ سربیا اپنے دوست ممالک چین اور روس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا۔