ماسکو (صداۓ روس)
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ مغرب روس کو میدان جنگ میں ہرانے سے قاصر ہے اس لیے ملک کے اندرونی سیاسی صورتحال کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماسکو میں یونائیٹڈ روس پارٹی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ روس کو مغربی اشرافیہ کی جانب سے شدید اور “بے مثال دباؤ” کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “وہ ہمیں اسٹریٹیجک طور پر شکست دینے، میدان جنگ میں جیتنے سے قاصر ہیں اور اب سیاسی صورتحال کو غیر مستحکم کرنے اور اندرونی انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ بھی ناکام ہو رہی ہے۔” پوتن نے کہا کہ مغربی اشرافیہ کیئف رژیم کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جسے انہوں نے روس کے خلاف “بٹرنگ ریم” کے طور پر منتخب کیا ہے۔ ان کے مطابق کیئف کی افواج محاذ پر پیچھے ہٹ رہی ہیں تو اب “کھلی دہشت گردی” پر اتر آئی ہیں اور عام شہریوں اور شہری مقامات پر نشانہ بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس پر لمبی دوری کے ڈرون حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے جن میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس اور ایمبولینس، سکول بسوں اور میوزیم جیسے خالص شہری اہداف شامل ہیں۔ ہفتے کے روز یوکرینی ڈرون حملے میں روس کے روستوف ریجن میں ایک دوسری جنگ عظیم کے میوزیم پر حملے میں 12 افراد زخمی ہوئے۔ پچھلے ہفتے یوکرینی حملوں میں کم از کم 41 عام شہری ہلاک ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔